ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہشت گردی کے نام پرپھر گرفتاریاں؛ مظفر نگر، شاملی اور دیوبند میں اے ٹی ایس کے چھاپے

دہشت گردی کے نام پرپھر گرفتاریاں؛ مظفر نگر، شاملی اور دیوبند میں اے ٹی ایس کے چھاپے

Sun, 06 Aug 2017 21:36:52    S.O. News Service

نئی دہلی 6/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی ) اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے  اتوار کو  مظفر نگر، شاملی اور دیوبند میں چھاپے مارکر مسجد کے ایک امام کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ کئی دیگر کو شبہ کی بنیاد پر بھی اپنی تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ گرفتار شدہ نوجوان کی شناخت عبداللہ کی حیثیت سے کی گئی ہے  جس کے تعلق سے اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہے اور ہندوستان میں فرضی دستاویزات کے سہارے مقیم تھا۔ اُدھر شاملی اور دیوبند سے بھی  کچھ طلبا کو تحویل میں لئے جانے کی خبریں موصول ہوئی ہیں جس کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ عبداللہ کی دی گئی اطلاع پر اُن طلبا کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

 اے ٹی ایس کے آئی جی اسیم ارن  نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے عبداللہ امام مامون نامی شخص کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مظفرنگر کے كٹےسرا گاؤں سے گرفتار کیا  ہے. ان کے مطابق ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی  'انصارا للہ بنگلہ تنظیم' سے منسلک ہے۔

اسیم ارن کے مطابق  انصاراللہ بنگلہ تنظیم  اسامہ بن لادن کی دہشت گرد تنظیم 'القاعدہ' سے شہہ پاکر بنائی گئی تنظیم ہے۔ انہوںنے بتایا کہ بنگلہ دیش کے مومن شاہی ضلع کے ہاسن پور  گاؤں کا رہنے والا عبداللہ گزشتہ قریب ایک ماہ سے مظفرنگر کے كٹےسرا میں رہ رہا تھا. اس سے پہلے وہ سہارنپور ضلع کے دیوبند واقع امبیھٹا  میں رہ رہا تھا. وہیں پر اس نے فرضی دستاویزات کی بنیاد پر اپنا پاسپورٹ بھی بنوایا تھا.

 ارن کے مطابق عبداللہ مامون کے قبضے سے جعلی آدھار کارڈ، پاسپورٹ، چار مہریں اور 13 شناختی کارڈس برآمد کئے گئے ہیں. ار ن کے مطابق عبداللہ  نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ وہ دیوبند میں رہ کر بنگلہ دیش رہائشی فیضان  کی مدد سے دہشت گردوں، خاص طور پر بنگلہ دیشی دہشت گردوں کو فرضی شناختی کارڈ کے ذریعے یہاں رہائش فراہم کر تا تھا. انہوں نے بتایا کہ عبداللہ سے ہوئی پوچھ تاچھ کی بنیاد پر فیضان  کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا تھا، مگر وہ فرار ہوگیا، جس  کی تلاش کی جا رہی ہے. اس معاملے  میں تین دیگر افراد کو بھی پوچھ گچھ کے لئے تحویل میں لیا گیا ہے.

اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ اُسے خفیہ ایجنسیوں سے خبر ملی تھی کہ دیوبند اور مظفر نگر میں کچھ لوگ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اس کی بنیاد پر اتوار کو ڈی آئی جی سہارنپور کی قیادت میں ایک مشترکہ ٹیم نے سہارن پور، مظفر نگر ، دیوبند اور شاملی میں چھاپے مارے، اس دوران مظفر نگر کے تھانہ چرتھائول کے کٹیسرا علاقہ میں کرایہ کے مکان پر رہنے والے بنگلہ دیشی نژاد عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولس کے مطابق عبداللہ 2011 سے ہندوستان میں ہے۔ پولس کے مطابق فیضان کے کمرے سے قابل اعتراض دستاویزات اور بنگلہ دیش کے ممنوعہ انصاراللہ کے کاغذات بھی برآمد ہوئے ہیں۔

 چارکو لیا گیا اے ٹی ایس کی تحویل میں

ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مظفر نگر میں گرفتار عبداللہ نامی بنگلہ دیشی کی نشاندہی پر دیگر علاقوں میں بھی چھاپہ ماری کرتے ہوئے چار  طلبا  کواپنی تحویل میں لیا گیاہے۔ اے ڈی جی قانون آنند کمار نے بتایا کہ  اے ٹی ایس کی ٹیم نے عبداللہ کے علاوہ جن چار افراد کو حراست میں لیا ہے، اُن سے ابھی پوچھ تاچھ جاری ہے۔ مزید بتایا کہ ان کا تعلق بہار اور کشمیر سے ہے۔ عبداللہ کے تعلق سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو آسامی بتایا کرتا تھا اور کٹیسرہ کی ایک مسجد میں  ایک ماہ سے امامت کررہا تھا، اس سے پہلے وہ انبیہٹہ میں مقیم تھا، گائوں کے لوگوں کے مطابق امام کے بارے میں گائوں والوں کو سرے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ سارے کام فرضی کررہا ہے۔

اُدھر اُترپردیش اے ٹی ایس نے شاملی کے قصبہ جلال آباد کے مدرسہ مفتاح العلوم سے دو مشتبہ کشمیری طلبہ کو حراست میں لیا ہے۔

میڈیا  کی ایک رپورٹ کے مطابق  مدرسہ مفتاح العلوم کے مہتمم مولانا حفی اللہ خان نے اس کاروائی میں پولس کے ساتھ پورا تعائون کیا۔ اطلاع کے مطابق اتوار صبح آٹھ بجے خفیہ محکمہ کے افسران نے مدرسہ کے مہتمم مولانا حفی اللہ خان سے رابطہ کیا اور مذکورہ طلبہ کے تعلق سے گفتگو کی اور بتایا کہ کچھ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اُن سے تفتیش ضروری ہے۔ اس کے بعد مدرسہ کے ایک استاد کے ساتھ افسران طالب العلم عادل حُسین ولد محمد سلیمان ساکن چچانا گاسینا کشتواڑ (جموں کشمیر) اور عبدالرحمن ولد محمد صغیر راجوری (پونچھ) کے کمرہ میں پہنچے اور ان کے کمروں کی تلاشی لیتے ہوئے دونوں کو حراست میں لے لیا اور کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔ پولس ان سے تفتیش کررہی ہے۔ پولس افسران نے فی الحال یہ نہیں بتایا ہے کہ کیا ان طلبہ کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے ہے یا پھر وہ کس طرح کی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ 


Share: